Navigation Menu+

اذان و اِقامت کی سنتیں

اذان و اِقامت کی سنتیں

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

 اذان و اِقامت قبلہ رو کہنا سنّت ہے۔[1

 اذان کے الفاظ ٹھہرٹھہر کر ادا کرناا ور اِقامت کے الفاظ جلد جلد ادا کرنا سنّت ہے۔[2

 اذان میں حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ،حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ کہتے وقت مؤذّن کو دائیں اور بائیں منہ پھیرنا سنّت ہے لیکن سینہ اور قدم قبلہ رُخ ہی رہیں۔[3

 جب مؤذّن سے اذان کے کلمات سنیں تو جس طرح وہ کہے اُسی طرح کہتے جائیں اور حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ کے جواب میں

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ کہیں۔[4

 فجر کی اذان میں اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کے جواب میں صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ کہا جائے گا۔[5

 اِقامت کا جواب بھی اذان کی طرح دِیا جائے گا لیکن  قَدْقَامَتِ الصَّلٰوۃُکے جواب میں اَقَامَہَااللہُ وَاَدَامَہَا  کہا جائے ۔[6

 اذان کا جواب دینے کے بعد درود شریف پڑھنا سنّت ہے۔  درود شریف پڑھ کریہ دُعا پڑھیں جو بخاری شریف کتابُ الاذان میں منقول ہے۔[7

 اذان کے بعد کی دُعا

اَللّٰھُمَّ رَبَّ ہٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّآمَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَآئِمَۃِ اٰتِ مُحمَّدَ ۨ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَ  ۨالَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ اِنَّکَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَادَ[8

ترجمہ: اے اللہ! اس پوری پکار کے ربّ !اور قائم ہونے والی نماز کے ربّ! محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو وسیلہ عطا فرما اور ان کو فضیلت عطا فرما اور    ان کواس مقامِ محمود پر پہنچا جس کا تُو نے اُن سے وعدہ فرمایا ہے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں فرماتا ہے۔

اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ بخاری میں نہیں ہے۔ اِمام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے سننِ کبیر میں نقل کیا ہے۔[9

وَالدَّرَجَۃَالرَّفِیْعَۃَ کا لفظ اور یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وغیرہ الفاظ جو مشہور ہیں،ان کا ثبوت رِوایات میں نہیں ہے۔ مُلّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

وَاَمَّا زِیَادَۃُ ’’وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ ‘‘ اَلْمُشْتَہِرَۃُ عَلَی الْاَلْسِنَۃِ فَقَالَ السَّخَاوِیْ لَمْ اَرَہٗ فِی شَیئٍ مِّنَ الرِّوَایَاتِ

فائدہ: اس دُعا پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اورحسنِ خاتمہ کا اِنعام ہے۔ [10

 

 

[1]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی: 1/276باب الاذان
[2]؎      جامع الترمذی: 1/48 باب ماجا فی الترسل فی الاذان
[3]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی: 1/277… رد المحتار: 2/53باب الاذان
[4]؎     صحیح البخاری:1/86باب مایقول اذا سمع المنادی
[5]؎       حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی:1/275،باب الاذان
[6]؎      سنن ابی داؤد:1/78 ،باب مایقول اذا سمع الاقامۃ
[7]؎  صحیح مسلم:1/166 ،استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہٗ ثم یصلی علی النّبی صلّی اللہ علیہ وسلّم
[8]؎    صحیح البخاری:1/86 ،  باب الدعاء عند الندآءِ
[9]؎   حصن حصین مع شرح فضل مبین
[10]؎    مرقاۃالمفاتیح: 2/231