Navigation Menu+

بعض عادات و خصائل نبویﷺ اور متفرق سنتیں

بعض عادات و خصائل نبویﷺ اور متفرق سنتیں

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

 سنّت: جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم چلتے تھے تو لوگوں کو آگے سے ہٹایا نہیں جاتا تھا۔[1

 سنّت: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جائز کام کو منع نہیں فرماتے تھے۔ اگرکوئی سوال کرتا اور اس کو پورا کرنے کا اِرادہ ہوتا تو ہاں کہہ دیتے ورنہ خاموش ہوجاتے۔[2

 سنّت:آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنا چہرہ کسی سے نہ پھیرتے جب تک وہ نہ پھیرتا اور اگر کوئی چپکے سے بات کہنا چاہتا تو آپ کان اُس کی طرف کردیتے اور جب تک وہ فارغ نہیں ہوتا تھا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کان نہیں ہٹاتے تھے۔[3

 سنّت: جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کسی کو رخصت فرماتے تو یہ دُعا فرماتے

اَسْتَوْدِعُ اللہَ دِیْنَکُمْ وَاَمَا نَتَکُمْ وَخَوَاتِیْمَ اَعْمَالِکُمْ  [4

سنّت: جب آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوئی پسندیدہ چیز دیکھتے تو فرماتے

 اَلْحَمْدُلِلہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ [5

اور جب ناگواری کی حالت پیش آتی تو فرماتے

اَلْحَمْدُلِلہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ

 سنّت: جب کوئی ملتا تو پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سلام کرتے تھے۔[6

 سنّت: جب کسی چیز کو کروٹ کی طرف دیکھتے تو پورا چہرہ پھیر کر دیکھتے، متکبروں کی طرح کن اَنکھیوں سے نہ دیکھتے۔[7

 سنّت: نگاہ نیچی رکھتے تھے۔ غایت حیاء کی وجہ سے نگاہ بھر کر نہ دیکھتے تھے۔[8

 سنّت: برتاؤ میں سختی نہ فرماتے نرمی کو پسند فرماتے۔ آپ اِنتہائی نرم مزاج حلیم الطبع اور رحم دِل تھے۔[9

سنّت: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم چلتے وقت پاؤں اُٹھاتے تو قدم قوّت سے اُٹھتا تھا اور قدم اِس طرح رکھتے تھے کہ ذرا آگے کو جھک جاتے،تواضع کے ساتھ قدم بڑھاکر چلتے گویا کسی بلندی سے پستی میں اُتر رہے ہوں۔[10

 سنّت: سب میں ملے جلے رہتے تھے (یعنی شان بناکر نہ رہتے تھے) بلکہ کبھی کبھی مزاح بھی فرمالیتے تھے۔[11

 سنّت: اگر کوئی غریب آتا یاکوئی بڑھیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بات کرنا چاہتی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سڑک کے ایک کنارے پر سننے کے لیے بیٹھ جاتے۔[12

 سنّت: نماز میں قرآنِ مجید کی تلاوت فرماتے تو سینۂمبارک سے ہانڈی کھولنے کی سی صدا آتی۔ خوفِ خدا کی وجہ سے یہ حالت ہوتی تھی۔[13

 سنّت: گھر والوں کا بہت خیال رکھتے کہ کسی کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تکلیف نہ پہنچے، اسی لیے رات کو باہر جانا ہوتا تو آہستہ سے اُٹھتے، آہستہ سے جوتا پہنتے، آہستہ سے کواڑ کھولتے، آہستہ سے باہر تشریف لے جاتے۔ اسی طرح گھر میں تشریف لاتے تو آہستہ سے آتے تاکہ سونے والوں کو تکلیف نہ ہو اور کسی کی نیند خراب نہ ہوجائے۔[14

 سنّت: جب چلتے تو نگاہ نیچی زمین کی طرف رکھتے، مجمع کے ساتھ چلتے تو سب سے پیچھے ہوتے اور کوئی سامنے سے آتا تو سب سے پہلے سلام آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی کرتے ۔[15

 سنّت: کسی قوم کا آبرو دار آدمی ہو تو اس کے ساتھ عزت سے پیش آنا۔[16

 سنّت: اپنے اوقات میں سے کچھ وقت اللہ کی عبادت کے لیے، کچھ گھروالوں کےحقوق ادا کرنے کے لیے، جیسے ان سے ہنسنا بولنا اور ایک حصہ اپنے بدن کی راحت کے لیے نکالنا۔[17

 سنّت: سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود شریف پڑھتے رہنا۔[18

 سنّت: پڑوسی کے ساتھ احسان کرنا، بڑوں کی عزّت کرنا اور چھوٹوں پر رحم کرنا۔[19

 سنّت: کوئی رشتہ دار بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا۔[20

 سنّت: جو لوگ دُنیا کے اعتبار سے کمزور ہیں، اُن کا خیال رکھنا۔[21

 سنّت: دائیں یا بائیں جانب تکیہ لگانا۔[22

 سنّت: بیوی کا دِل خوش کرنے کے لیے اس سے مزاح کرنا اور ہنسی کی بات کرنا بھی سنّت ہے۔[23

 سنّت: بعد نمازِ فجر اشراق تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں مربّع (آلتی پالتی) بیٹھتے تھے نیز اپنے اصحاب میں بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مربّع بیٹھتے تھے۔[24

البتہ چھوٹوں کو بڑوں کے سامنے دو زانو بیٹھنا اَقْرَبُ اِلَی التَّوَاضُعِ لکھا ہے۔

 سنّت: اپنے مسلمان بھائی سے کشادہ چہرے سے ملنا۔[25

 سنّت: سواری پر اس کے مالک کو آگے بیٹھنے کے لیے کہنا اور اس کی صریح اِجازت کے بغیر آگے نہ بیٹھنا سنّت ہے۔

اَنْتَ اَحَقُّ بِصَدْرِ دَآ بَّتِکَ …الخ [26

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاۤ اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ

وَتُبْ عَلَیْنَاۤ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ

 

 

[1]؎   زادالمعاد: 1/188
[2]؎   زادالمعاد: 1/188
[3]؎  زادالمعاد:1/188
[4]؎  جامع الترمذی:2/182 ، باب ماجاء مایقول اِذَا ودّع انسانا
[5]؎   المستدرک للحاکم:1/678(1840)… سنن ابن ماجہ: 278
[6]؎  شمائل الترمذی: 12
[7]؎  خصائل شرح شمائل الترمذی: 12
[8]؎   خصائل شرح شمائل الترمذی:12
[9]؎  مشکوٰۃ  المصابیح : 2/512 ، فضائل سیّد المُرسلین صلّی اللہ علیہ وسلّم
[10]؎   خصائل شمائل الترمذی: 12/73
[11]؎    بہشتی زیور: 8/4
[12]؎  بہشتی زیور: 8/4
[13]؎  شمائل الترمذی:188 باب ماجاء فی بکاء رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم
[14]؎   مشکوٰۃ المصابیح:1/280… بہشتی زیور: 8/4
[15]؎   شمائل الترمذی: 12
[16]؎  شمائل  الترمذی :2 ، باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم
[17]؎   شمائل الترمذی: 198
[18]؎    نشرالطیب: 170
[19]؎   مشکوٰۃ المصابیح: 2/422 ، 423
[20]؎   مشکوٰۃ المصابیح: 519
[21]؎   مشکوٰۃ  المصابیح  : 2/519 ، باب فی اخلاقہٖ وشمائلہٖ صلّی اللہ علیہ وسلّم
[22]؎ شمائل الترمذی مع خصائلِ نبوی: 76… زادالمعاد:1/20
[23]؎   خصائل شرح شمائل: 198
[24]؎      خصائل شرح شمائل: 76
[25]؎  جامع الترمذی :2/18،باب ماجاء فی طلاقۃ الوجہ وحسن البشر
[26]؎   مشکوٰۃ المصابیح :2/340، باب آداب السفر