Navigation Menu+

بیماری علاج اور عیادت کی سنتیں

بیماری علاج اور عیادت کی سنتیں

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

 بیماری میں دوا اور علاج کرانا مسنون ہے، علاج کراتا رہے مگر بیماری سےشفامیں نظر اللہ ہی پر رکھے۔[1

 کلونجی اور شہد کے ساتھ علاج کرنا سنّت ہے۔[2

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں میں شِفا رکھی ہے۔ ان دونوں کی تعریف میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔

 علاج کے دوران نقصان پہچانے والی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔[3

اپنے بیماربھائی کی عیادت کے لیے جانا سنّت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: عُوْدُوا الْمَرِیْضَمریض کی عیادت کرو اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے

 مَرِضْتُ مَرَضًا فَاَتَانِی النَّبِیُّ   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ یَعُوْدُنِیْ …الخ [4

فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہوگیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔

 بیمارپُرسی کرکے جلد لوٹ آنا سنّت ہے۔ کہیں تمہارے زیادہ دیر تک بیٹھنے سے بیمارملول و رنجیدہ نہ ہوجائے یا گھر والوں کے کام میں خلل نہ پڑے۔[5

 بیمار کی ہر طرح تسلی کرنا مسنون ہے۔ مثلاً اس سے یہ کہے کہ ان شاء اللہ تم جلد اچھے ہوجاؤگے۔ خدا تعالیٰ بڑی قدرت والے ہیں، کوئی ڈر یا خوف پیدا کرنے والی بات بیمار سے نہ کہے۔[6

 جب کسی مریض کی عیادت کرے تو اس سے یوں کہے

 لَا بَأْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَآءَ اللہُ [7

ترجمہ: کوئی حرج نہیں ان شاء اللہ بیماری گناہوں سے  پاک کرنے والی ہے۔

 پھر اس کی شفایابی کے لیے سات بار یہ دُعا پڑھے

 اَسْئَلُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ[8

ترجمہ:میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں جو عظیم ہے اور عرشِ عظیم کا ربّ ہے کہ تجھے شفاء عطا فرمائے۔

 حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے کہ سات مرتبہ اس کے پڑھنے سے مریض کو شفا ہوگی۔ ہاں! اگر اس کی موت ہی آگئی ہو تو دوسری بات ہے۔[9

 

 

[1]؎       شرح صحیح مسلم للنووی:2/225
[2]؎     صحیح البخاری :2/848،باب الدواء بالعسل باب الحبۃ السوداء
[3]؎     صحیح البخاری :2/843 ، باب وجوب عیادۃ المریض
[4]؎      صحیح البخاری :2/842 ، باب عیادۃ المغمٰی علیہ
[5]؎      مشکوٰۃالمصابیح:1/138،باب عیادۃ المریض
[6]؎     مشکوٰۃ المصابیح:1/138 ، باب عیادۃ المریض
[7]؎     صحیح البخاری:2/844(5677)،باب عیادۃ الاَعراب
[8]؎     صحیح البخاری:2/844 ، باب مایقال للمریض: 2/848
[9]؎    مشکوٰۃالمصابیح:1/135 باب عیادۃ المریض