Navigation Menu+

سفر کی سنتیں

سفر کی سنتیں

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

جہاں تک ہوسکے سفر میں کم از کم دو آدمی جائیں۔ تنہا آدمی سفر نہ کرے البتہ ضرورت اور مجبوری میں کوئی حرج نہیں کہ تنہا آدمی سفر کرے۔[1

 سواری کے لیے رکاب میں پاؤں رکھیں تو بِسْمِ اللہ  کہیں۔[2

 سواری پر اچھی طرح بیٹھ جائیں تو تین مرتبہ اَللہُ اَکْبَر  کہیں پھر یہ دُعا پڑھیں

 سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا  وَ مَا کُنَّا لَہٗ  مُقۡرِنِیۡنَ وَ  اِنَّاۤ  اِلٰی  رَبِّنَا  لَمُنۡقَلِبُوۡنَ [3

ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے تابع بنائی یہ سواری اور نہیں تھے ہم اس کو قابو کرنے والے اور بے شک ہم اپنے ربّ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

 پھر یہ دُعا پڑھیں

 اَللّٰہُمَّ ہَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ہٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَہٗ   اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَآءِ السَّفَرِ وَکَا بَۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْٓءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ وَالْوَلَدِ [4

ترجمہ: اے اللہ! آسان کردیجیے ہم پر اِس سفر کو اور طے کردیجیے ہم پر درازِی کو۔ اے اللہ! آپ ہی رفیق (مددگار) ہیں سفر میں اور خبرگیر ہیں گھر بار میں، یااللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں سفر کی مشقت سے اور بُری حالت دیکھنے سے اوروا پس آکر بُری حالت پانے سے مال میں اور گھر میں اور بچوں میں۔

مسافرت میں ٹھہرنے کی ضرورت پیش آئے تو سنّت یہ ہے کہ راستہ سے ہٹ کر قیام کرے۔ راستہ میں پڑاؤ نہ ڈالے کہ آنے جانے والوں کا راستہ رُکے اور اُن کو تکلیف ہو۔[5

سفر کے دوران جب سوارِی بلندی پر چڑھے تو اَللہُ اَکْبَر کہے۔[6

 جب سواری نشیب یا پستی میں اُترنے لگے تو سُبْحَانَ اللہ کہے۔[7

فائدہ: مرقاۃ میں ہے کہ یہ سنّت سفر کی ہے ،لیکن اپنے گھروں میں یا مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھتے وقت داہنا پاؤں بڑھائے اور اَللہُ اَکْبَر کہے خواہ ایک ہی سیڑھی ہو اور نیچے اُترتے وقت بایاں پاؤں آگے بڑھائے اور سبحان اللہ کہے خواہ معمولی نشیب ہو تو ثوابِ سنّت کی توقع ہے۔

اور مُلّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے بلندی پر چڑھتے وقت اَللہُ اَکْبَرْکہنے کا راز یہ بیان کیا ہے کہ بلندی پر ہم اگرچہ بظاہر بلند ہوتے نظر آرہے ہیں لیکن اے اللہ! ہم بلند نہیں ہیں، بلندی اور بڑائی صرف آپ کے لیے خاص ہے اور پستی میں اُترتے وقت سبحان اللہ کہنا اِس لیے ہے کہ ہم پست ہیں،  اے اللہ! آپ پستی سے پاک ہیں۔

 جس شہر یا گاؤں میں جانے کا اِرادہ ہو جب اس میں داخل ہونے لگیں تو تین بار یہ دُعا پڑھیں: [8

  اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَاجَنَاہَا وَحَبِّبْنَاۤ اِلٰٓی اَہْلِہَا وَحَبِّبْ صَالِحِیْۤ اَہْلِہَاۤ اِلَیْنَا [9

ترجمہ: یااللہ! نصیب کیجیے ہمیں ثمرات اس کے اور عزیز کردِیجیے ہمیں  اہلِ شہر کے نزدیک اور محبت دیجیے اِس شہر کے نیک لوگوں کی۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ جب سفر کی ضرورت پوری ہوجائے تو اپنے گھر لوٹ آئے، سفر میں بلاضرورت ٹھہرنا اچھا نہیں۔[10

 دو ر دراز کے سفر سے بہت دِنوں بعد زِیادہ رات گئے اگر گھر آئے تو اُسی وقت گھر میں نہ جائے بلکہ بہتر ہے کہ صبح مکان میں جائے۔[11

فائدہ: البتہ اہلِ خانہ تمہارے دیر سے آنے سے آگاہ ہوں اور اُن کو تمہارا اِنتظار بھی ہو تو اُسی وقت گھر میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ ان مسنون طریقوں پر عمل کرنے سے دِین و دُنیا کی بھلائی حاصل ہوگی۔

 سفر میں کتّا اور گھنگرو ساتھ رکھنےکی ممانعت آئی ہے۔ کیوں کہ ان کی وجہ سے شیطان پیچھے لگ جاتا ہے اور سفر کی برکت جاتی رہتی ہے۔[12

 سفر سے لوٹ کر آنے والے کے لیے یہ مسنون ہے کہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے مسجد میں جاکر دو  رکعت نماز پڑھے۔[13

 جب سفر سے واپس آئے تو یہ دُعا پڑھے

آئِبُوْنَ تَآئِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَاحٰمِدُوْنَ[14

ترجمہ: ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، اللہ کی بندگی کرنے والے ہیں، اپنے ربّ کی حمد کرنے والے ہیں۔

 

 

[1]؎    فتح الباری: 6/53
[2]؎     جامع الترمذی:2/182 ،  باب ماجاء مایقول اذا رکب دابۃ
[3]؎   صحیح مسلم:1/434 ، باب استحباب الذکر اذا رکب دابتہٗ متوجہا لسفر الحج او غیرہ… جامع الترمذی باب ماجاء مایقول اذا رکب دابۃ:2/183
[4]؎    صحیح مسلم :1/434 ، باب استحباب الذکر اذا رکب دابتہ متوجہا لسفر الحج او غیرہ
[5]؎ صحیح مسلم :2/144 ،باب امراعاۃ مصلحۃ الدواب فی السیر والنہی عن التعریس فی الطریق ص144، ج2
[6]؎  صحیح البخاری:1/420، باب التکبیر اذا علاشرفا
[7]؎    صحیح البخاری:1/420 ،  باب التسبیح اذا ہبط وادیا
[8]؎  مرقاۃ المفاتیح:5/339،ذکرہ بلفظ وکان صلّی اللہ علیہ وسلّم یراعی ذالک فی الزمان والمکان لان ذکر اللہ ینبغی ان لاینسی فی کل الاحوال
[9]؎ مرقاۃ المفاتیح:5/339 ،ذکرہ بلفظ کان یسبح فی الہوبط المناسب لتنزیہ ویکبر فی العلو الملاثم الکبریاء والعظمۃ
[10]؎   حصنِ حصین: 284
[11]؎  صحیح البخاری:1/421،باب السرعۃ فی السیر… مشکوٰۃالمصابیح: 1/339 (فائدہ) ذُکر فی مرقاۃ المفاتیح:7/416،417،وعلمت امرأتہ وأہلہ أنہ قادم فلا بأس بقدومہ لیلًا
[12]؎ صحیح مسلم:2/202، باب کراہۃ الکلب والجرس فی السفر: مشکوٰۃ المصابیح: 2/338 ،  باب آداب السفر
[13]؎ مشکوٰۃ المصابیح:2/339،باب آداب السفر:صحیح مسلم :1/248،باب استحباب رکعتین فی المسجد لمن قدم من السفر
[14]؎ صحیح مسلم:1/435 ، باب مایقول اذار جع من سفر الحج وغیرہ ، جامع الترمذی:2/182، باب مایقول اذا رجع من سفرہ