Navigation Menu+

صلوٰۃِ اِستخارہ

صلوٰۃِ اِستخارہ

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم کو (اہم) کاموں میں اِس طرح اِستخارہ تعلیم فرماتے تھے جس طرح قرآنِ پاک کی سورتوں کو یاد کراتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی اہم کام کا اِرادہ کرے تو دو  رکعت نفل پڑھے، پھر یہ دُعا پڑھے جو آگے آرہی ہے۔[1

اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے فرمایا کہ اے انس! جب تم کو کوئی امر تردّد میں ڈال دے تو اپنے ربّ سے اِستخارہ کرو اور سات مرتبہ اِستخارہ کرو۔ پھر دِل میں جو بات غالب آجائے، اسی میں خیر سمجھو۔[2

فائدہ: کسی خواب کا نظر آنا یا کسی آواز کا سنائی دینا ضروری نہیں۔ اسی طرح دوسروں سے اِستخارہ کرانا ثابت نہیں، دوسروں سے مشورہ لینا سنّت ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے جو مشورہ سے کام کرتا ہے، نادم نہیں ہوتا اور جو اِستخارہ کرکے کام کرتا ہے وہ نامراد نہیں ہوتا۔

نمازِ اِستخارہ پڑھنے کا موقع نہ ہو اور جلدی سے کسی اَمر میں اِستخارہ کرنا ہے تو صرف دُعائے اِستخارہ کافی ہے اور اگر یہ دُعا اِستخارہ کی یاد نہ ہو تو یہ مختصر سی دُعا کرلے

 اَللّٰہُمَّ خِرْلِیْ وَاخْتَرْلِیْ [3

دُعائے اِستخارہ

اَللّٰہُمَّ  اِنِّیْۤ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ مِنْ فِضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَاۤ اَقْدِرُ وتَعْلَمُ وَلَاۤ اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ،

اَللّٰہُمَّ  اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ہٰذَالْاَمْرَ (اس جگہ اپنے مطلب کا خیال کرے) خَیْرٌلِّی فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاقْدِرْہُ لِیْ وَیَسِّرْھُ لِیْ

ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ہٰذَالْاَمْرَ(اس جگہ اپنے مطلب کا خیال کرے) شَرٌّلِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ

وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدِرْلِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہٖ [4

ترجمہ: اے اللہ! میں آپ سے خیر طلب کرتا ہوں آپ کے علم کے واسطے سے اور قدرت طلب کرتا ہوں، آپ کی قدرت کی مدد سے اور آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کے فضل کا۔ پس بے شک آپ قدرت رکھنے والے ہیں اور میں عاجز اور کمزور ہوں اور آپ جانتے ہیں، میں نہیں جانتا اور آپ پوشیدہ باتوں کو بخوبی جاننے والے ہیں۔ اے اللہ! اگر یہ کام جو آپ کے علم میں ہے میرے لیے میرے دِین، معاش اور آخرت کے لیے خیر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرمادیجیے اور آسان فرمادیجیے اور پھر اس میں میرے لیے برکت ڈال دیجیے اور اگر آپ کے علم میں اس کے اندر شر ہے، میرے دِین اور معاش اور آخرت کے لیے تو اس کو مجھ سے دور کردیجیے اور مجھ کو اس سے دور کردیجیے اور جہاں خیر ہو اس کو میرے لیے مقدر کردیجیے اور مجھ کو اس پر راضی کردیجیے۔

اس دُعا کے بعد جو دِل میں خیال غالب ہوجائے، اسی میں خیر سمجھے۔

 

[1]؎  صحیح البخاری:2/944، باب دعاء الاستخارہ
[2]؎  ردالمحتار: 1/ 507
[3]؎  ردالمحتار: 2/ 470،471
[4]؎ صحیح البخاری :2/944 ، باب الدعاء عند الاستخارۃ… جامع الترمذی:1/109، باب ماجاء فی صلٰوۃ الاستخارہ… حصنِ حصین:263