Navigation Menu+

صلوٰۃِ حاجت

صلوٰۃِ حاجت

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ سے کوئی ضرورت پیش آئے یا کسی بندے سے کوئی حاجت ہو تو وہ وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعت نماز ادا کرے، پھر حق تعالیٰ کی ثناء کرے اور دُرود شریف پڑھے، پھر یہ دُعا پڑھے

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ وَالْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اَسْئَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَآئِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَینِمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَّالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ لَّاتَدَعْ لِیْ ذَنْۢبًا اِلَّا غَفَرْتَہٗ وَلَا ہَمًّا اِلَّا فَرَّجْتَہٗ وَلَا حَاجَۃً ہِیَ لَکَ رِضًا اِلَّا قَضَیْتَہَا یَاۤاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ [1

ترجمہ: نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ تعالیٰ کے جو حلیم و کریم ہیں (اَلْحَلِیْمُ الَّذِیْ لَایُعَجِّلُ بِالْعُقُوْبَۃِ، اَلْکَرِیْمُ الَّذِیْ یُعْطِیْ بِدُوْنِ اِسْتِحْقَاقٍ وَّمِنَّۃٍ حلیم ہے وہ ذات جو سزا دینے میں جلدی نہ کرے اور کریم وہ ذات ہے جو بدونِ اِستحقاق اور قابلیت عطا کرے) پاک ہے اللہ جو عرشِ اعظم کا ربّ ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ ربّ العالمین کے لیے خاص ہے۔ اے اللہ! میں سوال کرتا ہوں آپ کی رحمت کے موجبات کا اور آپ کی مغفرت کے اِرادوں کا اور ہر نیکی کے مالِ غنیمت کا اور ہر بُرائی سے سلامتی کا ہمارے کسی گناہ کو نہ چھوڑئیے، مگر بخش دِیجیے اور نہ ہمارا کوئی غم باقی رکھیے مگر اُس کو دور فرمادِیجیے اور ہماری ہر حاجت کو جس سے آپ راضی ہوں، اس کو پوری کردِیجیے، اے ارحم الراحمین!

ہر دُعا کے قبل اور بعد دُرود شریف پڑھ لینا دُعا کی قبولیت کا نہایت قوی ذریعہ ہے۔

علّامہ ردالمحتار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ علّامہ ابو اسحاق الشاطبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا

اَلصَّلٰوۃُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  مُجَابَۃٌ عَلَی الْقَطْعِ

 یعنی دُرود شریف کو حق تعالیٰ شانہٗ قبول فرمالیتے ہیں اور کریم سے بعید ہے کہ بعض دُعا کو قبول کرے اور بعض کو رد کردے۔

فَاِنَّ الْکَرِیْمَ لَایَسْتَجِیْبُ بَعْضَ الدُّعَآءِ وَیَرُدُّ بَعْضَہٗ

اور علّامہ ابوسلیمان دارانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ دُعا سے قبل اور بعد دُرود شریف پڑھنے والی دُعا قبول ہوجاتی ہے کیوں کہ حق تعالیٰ صرف آگے اور پیچھے کی دُعاؤں کو قبول فرمالیں اور درمیان کی دُعا کو رد کردیں۔ یہ اُن کے کرم سے بعید ہے۔

 فَاِنَّ اللہَ یَقْبَلُ الصَّلٰو تَیْنِ وَہُوَ اَکْرَمُ مِنْ اَنْ یَّدَعَ مَابَیْنَہُمَا [2

احقر عرض کرتا ہے کہ جب بھی کوئی پریشانی دُنیا یا آخرت کی آئے، جسمانی مصیبت ہو یا روحانی مصیبت یعنی مصیبت کے تقاضے پریشان کریں، دو رکعت نمازِ حاجت پڑھ کر مذکورہ دُعا پڑھ کر بار بار ہر روز دِل سے دُعا کرے، غیب سے اسبابِ فلاح پیدا ہوں گے۔ جس کا دِل چاہے اپنے ربّ سے نصرت اور کرم کا اِنعام حاصل کرے۔[3

 

 

[1]؎ جامع الترمذی:1/108،109 ، باب ماجاء فی صلٰوۃ الحاجۃ… سنن ابن ماجہ: 98،99،باب ماجاء فی صلٰوۃ الحاجۃ… المستدرک للحاکم:1/320… ردالمحتار :  2/473
[2]؎   ردالمحتار:2/233
[3]؎  ردالمحتار:2/233،قال ابُوسلیمان الدارمی من اراد ان یسئل اللہ حَاجَتَہٗ فلیکثر بالصلاۃ علی النّبی صلّی اللہ علیہ وسلّم ثم یسئل الحاجۃ ولیختم بالصلاۃ علی النّبی صلّی اللہ علیہ وسلّم فان اللّہ یقبل الصلاتین وہو اکرم من ان یدع مابینہما