Navigation Menu+

غسل کرنے کا مسنون طریقہ

غسل کرنے کا مسنون طریقہ

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

 پہلے دونوں ہاتھ گٹوں تک دھویے، پھر اِستنجے کی جگہ دھویے۔ چاہے ہاتھ اور اِستنجے کی جگہ پر نجاست لگی ہو یا نہ لگی ہو، ہر حال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیے (اور اِستنجے کی جگہ دھونے سے مراد یہ ہے کہ چھوٹا اور بڑا دونوں اِستنجے کے مقا م کو دھویے) پھر بدن پر کسی جگہ منی یا کوئی ناپاکی لگی ہوئی ہو تو اس کو پاک کیجیے۔ اس کے بعد مسنون طریقہ پر وضو کیجیے۔ اگر پانی قدموں میں جمع ہورہا ہے تو پیروں کو نہ دھوئیے۔ وضو کے بعد تین مرتبہ سر پر پانی ڈالیے (اِتنا پانی ڈالیے کہ سر سے پاؤں تک سارے بدن پر بہہ جائے) اور بدن کو ہاتھوں سے ملیےتاکہ بدن کا کوئی حصہ خشک نہ رہنے پائے۔ اگر بال برابر بھی جگہ خشک رہ گئی تو غسل نہ ہوگا۔ غرض سارے بدن پر پانی بہائیے۔ پھر وہاں سے ہٹ کر پاک جگہ پر آکر پاؤں دھویے لیکن اگر وضو کے وقت پیر دھولیے ہوں تو اب دھونے کی ضرورت نہیں۔ [1

فائدہ:غسل کے بعد بدن کو کپڑے سے پونچھنا بھی ثابت ہے اور نہ پونچھنا بھی لہٰذا دونوں میں سے جو صورت بھی آپ اِختیار کریں، سنّت ہونے کی نیت کرلیا کیجیے۔ [2

 

[1]؎     ردالمحتار:1/157 ، 159… بہشتی زیور
[2]؎     سنن النسائی: 1/31… جامع الترمذی: 1/18… ردالمحتار:1/97

غسل کے فرائض

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

غسل کے فرائض

غسل کا مندرجہ بالا طریقہ سنّت کے موافق ہے۔ غسل میں بعض چیزیں فرض ہیں کہ ان کے بغیر غسل درست نہیں ہوتا اور آدمی ناپاک رہتا ہے لہٰذا غسل کے فرائض کا علم ہونا ضروری ہے۔ غسل میں صرف تین چیزیں فرض ہیں۔

  کلّی کرنا(اِس طرح کہ سارے منہ میں پانی پہنچ جائے۔[1

 ناک میں پانی ڈالنا (جہاں تک ناک کا نرم حصّہ ہے۔[2

 سارے بدن پر پانی پہنچانا۔[3

[1]؎      بہشتی زیور: 1/56… ردالمحتار  ، کتاب الطہارۃ: 1/292
[2]؎    سنن النسائی :1/50باب ترک المندیل بعد الغسل
[3]؎      بہشتی زیور