Navigation Menu+

معاشرت کی چند سنتیں

معاشرت کی چند سنتیں

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

سلام کرنا مسلمانوں کے لیے بہت بڑی سنّت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے، اس سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔ ہر مسلمان کو سلام کرنا چاہیے خواہ اسے پہچانتا ہو یا نہ ہو۔ کیوں کہ سلام اِسلامی حق ہے، کسی کے جاننے اور شناسائی پر موقوف نہیں۔[1

بخاری اور مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا گزر بچوں پر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو سلام کیا، اس لیے بچوں کو بھی سلام کرنا سنّت ہے۔[2

سلام کرنے کا سنّت طریقہ یہ ہے کہ زبان سے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہے، ہاتھ سے یا سر سے یا اُنگلی کے اِشارے سے سلام کرنا یا اس کا جواب دینا سنّت کے خلاف ہے۔ اگر دوری ہو تو زبان اور ہاتھ دونوں سے سلام کرے۔[3

 کسی مسلمان بھائی سے ملاقات ہو تو سلام کے بعد مصافحہ کرنا مسنون ہے۔ عورت، عورت سے مصافحہ کرسکتی ہے۔[4

 کسی مجلس میں جاؤ تو جہاں موقع ملے اور جگہ ملے بیٹھ جاؤ، دوسروں کو اُٹھا کر خود بیٹھ جانا، گناہ کی بات اور مکروہ ہے۔[5

 اگر کوئی شخص آپ سے ملنے آئے تو آپ اپنی جگہ سے ذرا سا کھسک جائیں، (چاہے مجلس میں گنجائش ہو) یہ بھی سنّت ہے اور اس میں اس آنے والے کا اِکرام ہے۔[6

 کہیں اگر صرف تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر کانا پھوسی (سرگوشی) کی اِجازت نہیں کہ خواہ مخواہ اس کا دِل شبہات کی وجہ سے رنجیدہ ہوگا اور مسلمان بھائی کو رنجیدہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔[7

 کسی کے مکان پر جانا ہو تو اس سے اِجازت لے کر داخل ہونا چاہیے۔[8

  جب جمائی آوے تو سنّت ہے کہ اس کو روکنے کی مقدور بھر کوشش کرے۔ اور اگر منہ کوشش کے باوجود بند نہ رکھ سکے تو بائیں ہاتھ کی پشت کو منہ پر رکھ لے اور ’’ہا ہا‘‘ کی آواز نہ نکالے کہ یہ حدیث شریف میں ممنوع ہے۔[9

 اگر کسی کا اچھا نام سنو تو اس سے اپنے مقصد کے لیے نیک فال سمجھنا سنّت ہے اور اس سے خوش ہونا بھی سنّت ہے۔ بدفالی لینے کو سخت منع فرمایا گیا ہے۔ جیسے راستہ چلتے کسی کو چھینک آگئی تو یہ سمجھنا کہ کام نہ ہوگا یا کوّا بولا، یا بندر نظر آگیا یا اُلّو بولا تو اِن سے آفت آنے کا گمان کرنا سخت نادانی اور بالکل  بے اصل اور غلط اور گمراہی کا عقیدہ ہے۔ اسی طرح کسی کو منحوس سمجھنا یا کسی دِن کو منحوس سمجھنا بہت بُرا ہے۔[10

سنّت پر عمل کرنے سے بندہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوجاتا ہے، اِس لیے اہتمام سے اس پر عمل کرنا چاہیے۔

 

 

[1]؎ صحیح البخاری :2/921 ، باب السلام للمعرفۃ وغیرالمعرفۃ
[2]؎صحیح البخاری:2/921، باب تسلیم القلیل علی الکشیر… صحیح مسلم:2/214، باب استحباب السلام علی الصیبان
[3]؎  مشکوٰۃ  المصابیح:2/399 ، باب السلام…جامع الترمذی :2/99،ماجاء فی کراہیۃ اشارۃ الید فی السّلام
[4]؎      مشکوٰۃ  المصابیح:2/401، باب المصافحۃ والمعانقۃ
[5]؎ صحیح البخاری :2/927،لایقیم الرجل الرجل من مجلسہ… صحیح مسلم:2/217، باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ المباح الذی سبق الیہ
[6]؎ زادالطالبین:56…شعب الایمان للبیھقی:2/468(8933)
[7]؎  صحیح مسلم:2/219 ، باب تحریم مناجاۃ الاثنین دون الثالث بغیر رضاہ
[8]؎  مشکوٰۃ  المصابیح  :2/401 ، باب الاستیذان
[9]؎  صحیح البخاری :2/919،باب مایستحب من العطاس ومایکرہ من التثاؤب… صحیح البخاری:2/19196،باب اذا تثاء ب احدکم فلیضع یدہ، علی فیہ
[10]؎  مرقاۃ المفاتیح:9/26