Navigation Menu+

نماز کی اکیاون(۵۱)سنتیں

نماز کی اکیاون سنتیں

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

قیام میں گیارہ سنتیں

 تکبیرِ تحریمہ کے وقت سیدھا کھڑا ہونا یعنی سرکو پست نہ کرنا۔[1

 دونوں پیروں کے درمیان چار اُنگل کا فاصلہ رکھنا اور پیروں کی اُنگلیاں قبلہ کی طرف رکھنا۔[2

تنبیہ:بعض فقہاء نے چار اُنگل کے فاصلہ کو مستحب کہا ہے لیکن فقہ میں مستحب کا اِطلاق سنّت پر اور سنّت کا اِطلاق مستحب پر ہوتا ہے۔[3

 مقتدی کی تکبیرِ تحریمہ کا اِمام کی تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ ہونا۔[4

فائدہ: مقتدی کی تکبیرِ تحریمہ اگر اِمام کی تکبیرِ تحریمہ سے پہلے ختم ہوگئی تو اِقتداصحیح نہ ہوگی۔

 تکبیرِ تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھ کانوں تک اُٹھانا۔[5

 ہتھیلیوں کو قبلہ کی طرف رکھنا۔[6

 اُنگلیوں کو اپنی حالت پر رکھنا۔ یعنی نہ زیادہ کھلی ہوں اور نہ زیادہ بند۔[7

 داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھنا۔[8

 چھنگلیا اور انگوٹھے سے حلقہ بناکر گٹے کو پکڑنا۔[9

 درمیانی تین اُنگلیوں کو کلائی پر رکھنا۔[10

 ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا۔[11

 ثناء پڑھنا۔[12

قرأت کی سات سنتیں

 تعوُّذ یعنی اَعُوْذُ بِاللہِ پڑھنا۔[13

 تسمیہ یعنی ہر رکعت کے شروع میں بِسْمِ اللہِ پڑھنا۔[14

 چپکے سے’’ آمین‘‘ کہنا۔[15

فجر اور ظہر میں طوالِ مفصل یعنی سورۂ حجرات سے سورۂ بروج تک عصر و عشاء اوساطِ مفصل یعنی سورۂ بروج سے سورۂ لم یکن تک اور مغرب میں قصارِ مفصل یعنی سورۂ لم یکن سے سورۂ ناس تک کی سورتوں میں سے کوئی سورۃ پڑھنا۔[16

 فجر کی پہلی رکعت کو طویل کرنا۔[17

ثناء، تعوّذ، تسمیہ اور آمین کو آہستہ کہنا۔[18

 فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورۂ فاتحہ کا پڑھنا۔[19

رُکوع کی آٹھ سنتیں

 رُکوع کی تکبیر کہنا۔[20

 رُکوع میں دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنا۔[21

 گھٹنوں کو پکڑنے میں اُنگلیوں کو کشادہ رکھنا۔[22

 پیٹھ کو بچھادینا۔[23

 پنڈلیوں کو سیدھا رکھنا۔[24

 سر اور سُرین کو برابر رکھنا۔[25

 رکوع میں تین بار  سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ پڑھنا۔[26

 رُکوع سے اُٹھنے میں اِمام کو سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ  باآوازِ بلند کہنا اور مقتدی کو رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ اور منفرد کو دونوں کہنا    (آہستہ سے) اور رُکوع کے بعد اِطمینان سے سیدھا کھڑا ہونا۔[27

سجدہ کی بارہ سنتیں

 سجدہ میں جاتے وقت تکبیر کہنا۔[28

 سجدہ میں پہلے دونوں گھٹنوں کو رکھنا۔[29

 پھر دونوں ہاتھوں کو رکھنا۔[30

 پھر ناک رکھنا۔[31

 پھر پیشانی رکھنا۔[32

 سجدہ میں سر دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھنا۔[33

 سجدہ میں پیٹ کو رانوں سے الگ رکھنا اور پہلوؤں کو بازوؤں سے الگ رکھنا۔[34

 کہنیوں کو زمین سے الگ رکھنا۔[35

 سجدہ میں تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی پڑھنا۔[36

 سجدہ سے اُٹھنے کی تکبیر کہنا۔[37

 سجدہ سے اُٹھنے میں پہلے پیشانی، پھر ناک، پھر ہاتھوں کو، پھر گھٹنوں کو اُٹھانا۔[38

 دونوں سجدوں کے درمیان اِطمینان سے بیٹھنا۔[39

قعدہ کی تیرہ سنتیں

 دائیں پیر کو کھڑا رکھنا اور بائیں پیر کو بچھاکر اس پر بیٹھنا۔[40

 دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھنا۔[41

 تشہد میں اَشْہَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰہَ پر شہادت کی اُنگلی کو اُٹھانا اور اِلَّا اللہُ پر جھکادینا۔[42

 قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھنا۔[43

 درود شریف کے بعد دُعائے ماثورہ اُن الفاظ میں جو( قرآن  و حدیث کے مشابہ ہوں )پڑھنا۔ [44

 دونوں طرف (دائیں بائیں) سلام پھیرنا۔[45

 سلام کی اِبتداداہنی طرف سے کرنا۔[46

 اِمام کو مقتدیوں، فرشتوں اور صالح جنات کی نیت کرنا۔[47

 مقتدی کو اِمام،فرشتوں اور صالح جنات اور دائیں بائیں مقتدیوں کی نیت کرنا۔ [48

 منفرد کو صرف فرشتوں کی نیت کرنا۔[49

 مقتدی کو اِمام کے ساتھ ساتھ سلام پھیرنا۔[50

 دوسرے سلام کی آواز کو پہلے سلام کی آواز سے پست کرنا۔[51

 مسبوق کو اِمام کے فارغ ہونے کا اِنتظار کرنا۔[52

[1]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/302
[2]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/357… ردالمحتار:2/2085  ، باب صفۃ الصلاۃ
[3]؎     ردالمحتار:3/48 ،تجویز اِطلاق اسم المستحب علی السنّۃ وعکسہ
[4]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/350
[5]؎     سنن ابی داؤد: 1/105،باب رفع الیدین
[6]؎  حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی:1/350… ردالمحتار2/202 ، 203 باب صفۃ الصّلاۃ
[7]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی:1/349 ، باب صفۃ الصّلاۃ:2/171
[8]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/351 ، 352
[9]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی:1/352 فصل فی بیان سننہا
[10]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/352
[11]؎     ردالمحتار:2/187 ،باب صفۃ الصّلاۃ
[12]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/351
[13]؎   حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/351
[14]؎   حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی:1/353
[15]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/355
[16]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/357 ، 358
[17]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/360
[18]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی:1/355 ، 356
[19]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/368
[20]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/361
[21]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی:1/362
[22]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/362
[23]؎    ردالمحتار:2/196
[24]؎     ردالمحتار: 2/197
[25]؎    ردالمحتار: 2/196 ، 197
[26]؎     طحطاوی: 144
[27]؎    ردالمحتار: 2/201
[28]؎    ردالمحتار: 2/202
[29]؎    ردالمحتار:2/202… حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی:1/363
[30]؎    ردالمحتار :1/202… حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی :1/363
[31]؎   ردالمحتار: 2/203… حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی :1/363
[32]؎   ردالمحتار: 2/303… حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/363
[33]؎   ردالمحتار: 2/202… حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/364
[34]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی:1/365
[35]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/365
[36]؎    ہدایۃ: 1/109
[37]؎    ردالمحتار: 2/210 ، 211
[38]؎    ردالمحتار: 2/203… حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی:1/364
[39]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/366
[40]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/366
[41]؎   حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/366
[42]؎   حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/376
[43]؎   حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/369
[44]؎   حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/371
[45]؎   حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/373
[46]؎   حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/373
[47]؎   حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/373 ، 374
[48]؎   حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی:  1/375
[49]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/375
[50]؎     حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی: 1/375
[51]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی:1/375
[52]؎    حاشیۃ الطحطاوی علی  المراقی:1/375

فرائض نماز

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

فرائض نماز

تکبیرِ تحریمہ[53

 قیام (کھڑا ہونا)۔ [54

 قرأ ت (قرآن شریف میں سے کوئی سورۃیاطویل آیت پڑھنا) [55

 رُکوع کرنا۔[56

 دونوں سجدے کرنا۔[57

 قعدۂاخیرہ میں التحیات کی مقدار بیٹھنا۔

اگر مندرجہ بالا چیزوں میں سے کوئی بھی چھوٹ جائے تو نماز نہیں ہوگی، دوبارہ پڑھنی ہوگی۔

نوٹ: واجباتِ نماز، مفسداتِ نماز وغیرہ مسائل ’’بہشتی زیور یا آئینۂنماز‘‘مؤلفہ حضرت مفتی سعید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ مفتیِ اعظم جامعہ مظاہرِ علوم سہارنپور میں دیکھ کر عمل کریں۔

[53]؎    ردالمحتار: 2/128 …حاشیہ الطحطاوی علی المراقی: 1/300
[54]؎    ردالمحتار: 2/131… حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی:1/309 ،310
[55]؎    ردالمحتار: 2/133… حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی: 310،311
[56]؎      ردالمحتار: 2/133… حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی: 1/315
[57]؎     ردالمحتار: 2/132… حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی:1/315

عورتوں کی نماز میں خاص فرق

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

عورتوں کی نماز میں خاص فرق

 عورت تکبیرِتحریمہ کہتے وقت دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اُٹھائے لیکن ہاتھوں کو دوپٹے سے باہر نہ نکالے۔[58

 سینے پر ہاتھ باندھے اور داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھ دے۔ مردوں کی طرح چھنگلیا اور انگوٹھے سے گٹّے کو نہ پکڑے۔[59

 رکوع میں کم جھکے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملاکر گھٹنوں پر رکھ دے، اُنگلیوں کو کشادہ نہ کرے۔ دونوں بازو پہلو سے خوب ملائے رکھے اور دونوں پیروں کے ٹخنے بالکل ملادے ۔[60

 سجدہ میں پیر کھڑے نہ کرے بلکہ داہنی طرف کو نکال دے اور خوب سمٹ کر اور دَب کر سجدہ کرے کہ پیٹ کو رانوں سے اور بازو دونوں پہلوؤں سے ملادے اور کہنیوں کو زمین پر رکھ دے۔[61

 قعدہ میں بائیں طرف بیٹھے اور دونوں پاؤں داہنی طرف نکال دے اور رانوں پر دونوں ہاتھوں کو رکھ دے اور ہاتھوں کی انگلیاں خوب ملاکر رکھے۔[62

 [58]؎   حصن حصین:224
[59]؎    مرقاۃ المفاتیح: 3/35 ، باب الذکر بعد الصّلٰوۃ
[60]؎   ردالمحتار:2/188
[61]؎     ردالمحتار: 2/211… بہشتی زیور :2/17
[62]؎    ردالمحتار :2/211

نماز کے وہ آداب جو سب کے لیے یکساں ہیں

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

نماز کے وہ آداب جو سب کے لیے یکساں ہیں

قیام میں سجدہ کی جگہ،رکوع میں پاؤں پر،سجدہ کی حالت میں ناک پراوربیٹھنے کے وقت گود کی طرف، سلام پھیرتے وقت کندھوں پر نظر رہے اور جمائی آئے تو خوب طاقت سے روکے اور حتی الامکان منہ بند رکھے اور جب کھانسی کا اثر معلوم ہو تو بھی جہاں تک ہوسکے ضبط کرے ۔[63

ہر فرض نماز کے بعد ان دُعاؤں میں سے کوئی پڑھیں۔ سلام پھیر کراَسْتَغْفِرُاللہَ تین بار پڑھنا مسنون ہے۔ پھر یہ پڑھیں

   اَللّٰہُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ  تَبَارَکْتَ یَاذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ[64

ترجمہ: اے اللہ! تو سلامتی والا ہے اور تجھ ہی سے سلامتی مل سکتی ہے، تو بابرکت ہے اے بزرگی اور کرم والے۔

نوٹ: مُلّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقاۃ جلد نمبر ۲ صفحہ نمبر ۳۵۸ پر لکھا ہے کہ

اِلَیْکَ یَرْجِعُ السَّلَامُ فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ وَاَدْخِلْنَا دَارَکَ دَارَالسَّلَامِ فَلَاۤ اَصْلَ لَہٗ …الخ[65

یعنی ان جملوں کا روایات میں ثبوت نہیں ملتا بلکہ بعض قصہ گو لوگوں کا بڑھایا ہوا ہے۔

 لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ[66

 اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اُرَدَّ اِلٰۤی اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ[67

ترجمہ: اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں بزدلی سے اور آپ کی پناہ لیتا ہوں اس بات سے کہ پہنچادِیا جاؤں نکمّی عمر تک اور آپ کی پناہ لیتا ہوں دنیا کے فتنہ سے اور آپ کی پناہ لیتا ہوں قبر کے عذاب سے۔

[63]؎    ’’آئینۂ نماز‘‘ مؤلّفہ حضرت مفتی سعید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ مفتیِ اعظم جامعہ مظاہرِ علوم
[64]؎    حصنِ حصین:223
[65]؎     ردالمحتار:2/188
[66]؎    حصنِ حصین:228
[67]؎   جامع الترمذی:2/197،باب فی دعاءالنبی وتعوذہ فی دبر کل صلٰوۃ