Navigation Menu+

ولیمہ

ولیمہ

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

شبِ عروسی گزارنے کے بعد، اپنے عزیزوں، دوستوں، رِشتہ داروں اور مساکین کو ولیمہ کا کھانا کھلانا سنّت ہے۔ ولیمہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ بڑے پیمانے پر کھانا تیار کرکے کھلائے، تھوڑا کھانا حسبِ اِستطاعت تیار کرکے دوستوں، عزیزوں وغیرہ کو تھوڑا تھوڑا کھلانا بھی ادائیگی سنّت کے لیے کافی ہے، بہت ہی بُرا ولیمہ وہ ہے کہ مال دار  و دُنیادار لوگوں کو تو بلایا جائے مگر غریب، مسکین، محتاج اور دِین دار لوگوں کو دُھتکار دِیا جائے۔

 شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیْمَۃِ یُدْعٰی لَہَا الْاَغْنِیَآءُ وَیُتْرَکُ الْفُقَرَآءُ [1

ایسے بُرے ولیمہ سے بچنا چاہیے۔ ولیمہ میں ادائیگیِ سنّت کی نیت رکھو۔ دِین دار غریب اور محتاج لوگوں کو بلاؤ، امیروں میں سے بھی جس کو دِل چاہے بلاؤ مگر غریبوں کو دھکے نہ دو۔ جو ولیمہ نام وَرِی اور دِکھاوے کے لیے یا لوگوں کی تعریف کے لیے کیا جائے، اس کا کوئی ثواب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غصہ کا اندیشہ ہے۔

 

[1]؎    صحیح البخاری :2/778 ، من ترک الدعوۃ فقد عصی اللہ ورسولہ