Navigation Menu+

کھانے کی چند سنتیں

کھانے کی چند سنتیں

by مفتی امان اللہ خان قائمخانی

دسترخوان بچھانا۔[1

 دونوں ہاتھ گٹّوں تک دھونا۔[2

 بسم اللہ پڑھنا( بلند آواز سے)۔ [3

 داہنے ہاتھ سے کھانا۔[4

 کھانے کی مجلس میں جو شخص سب سے زیادہ بزرگ اور بڑا ہو اس سے کھانا شروع کرانا۔[5

 کھانا ایک قسم کا ہو تو اپنے سامنے سے کھانا۔[6

 اگر کوئی لقمہ گرجائے تو اُٹھاکر صاف کرکے کھالینا۔[7

 ٹیک لگاکر نہ کھانا۔[8

 کھانے میں کوئی عیب نہ نکالنا۔[9

 جوتا اُتار کر کھانا، کھانا۔[10

 کھانے کے وقت اُکڑوں بیٹھنا کہ دونوں گھٹنے کھڑے ہوں اور سُرین زمین پر ہوں یا ایک گھٹنا کھڑا ہو اور دوسرے گھٹنے کو بچھاکر اس پر بیٹھےیا دونوں گھٹنے زمین پر بچھاکر قعدہ کی طرح آگے کی طرف ذرا جھک کر بیٹھے۔[11

 کھانے کے برتن، پیالہ و پلیٹ کو صاف کرلینا۔ پھر برتن اس کے لیے دُعائے مغفرت کرتا ہے۔[12

کھانے کے بعد اُنگلیوں کو چاٹنا۔[13

کھانے کے بعد کی دُعا پڑھنا

 اَلْحَمْدُلِلہِ الَّذِیْۤ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ [14

ترجمہ: سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور مسلمان بنایا۔

 پہلے دسترخوان اُٹھوانا پھر خود اُٹھنا۔[15

 دسترخوان اُٹھانے کی دُعا پڑھنا

 اَلْحَمْدُلِلہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ غَیْرَمَکْفِیٍّ وَّلَا مُوَدَّعٍ وَّلَا مُسْتَغْنًی عَنْہُ رَبَّنَا[16

ترجمہ: سب تعریف اللہ کے لیے ہے ایسی تعریف جو بہت پاکیزہ اور بابرکت ہو، اے ہمارے ربّ! ہم اس کھانے کو کافی سمجھ کر یا بالکل رُخصت کرکے یا اس سے غیرمحتاج ہوکر نہیں اُٹھارہے ہیں۔

 دونوں ہاتھ دھونا۔[17

 کلّی کرنا۔[18

 اگر شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یوں پڑھے

 بِسْمِ اللہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ [19

 جب کسی کی دعوت کھائے تو میزبان کو یہ دعا دے

 اَللّٰہُمَّ اَطْعِمْ مَّنْ اَطْعَمَنِیْ وَاسْقِ مَنْ سَقَانِیْ [20

ترجمہ:اے اللہ! جس نےمجھ کو کھلایا تواس کو کھلا اور جس نےمجھ کو پلایاتو اُس کو پلا۔

خالص گندم اگر کوئی اِستعمال کرتا ہے تو اُسے چاہیے کہ اس میں کچھ جَو بھی ملالے، چاہے تھوڑی ہی مقدار میں ہو تاکہ سنّت پر عمل کا ثواب حاصل ہوجائے۔[22

 گوشت کھانا سنّت ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دنیا اور آخرت میں کھانوں کا سردار گوشت ہے۔[23

 اپنے مسلمان بھائی کی دعوت قبول کرنا سنّت ہے۔ البتہ اگر (غالب آمدنی) سود یا رشوت کی ہو یا وہ بدکاری میں مبتلا ہو تو اس کی دعوت قبول نہیں کرنی چاہیے۔[24

 میّت کے رشتہ داروں یعنی میّت کے گھر کے افراد کو کھانا دینا مسنون ہے۔[25

 

 

[1]؎    صحیح البخاری:2/188 ،باب من ناول او قدم الٰی صاحبہ علی المائدۃ
[2]؎    صحیح البخاری:2/809 ،باب التسمیۃ علی الطعام: … صحیح مسلم:2/172
[3]؎    صحیح البخاری:2/110 ،باب التسمیۃ علی الطعام والاکل بالیمین
[4]؎    صحیح مسلم:2/172 ،باب آداب الطعام والشراب واحکامہا
[5]؎     صحیح مسلم :2/171،باب آداب الطعام والشراب واحکامھا
[6]؎    صحیح البخاری :2/110،باب الاکل ممایلیہ
[7]؎  صحیح مسلم :2/175،باب استحباب لعق الاصایع والقصعۃ واکل اللقمۃ الساقطۃ
[8]؎    جامع الترمذی:2/5 ،باب ماجاء فی کراھیۃ الاکل متکئا
[9]؎ صحیح البخاری:2/814،باب ماعاب النّبی صلّی اللہ علیہ وسلّم طعامًا قط … صحیح مسلم:2/187 ، باب لایعیب الطعام
[10]؎     مشکوٰۃ المصابیح:2/368 ،باب الاطعمۃ
[11]؎  مرقاۃ المفاتیح: 8/102… شرح صحیح مسلم للنووی :2/180، قال الجوہری :الاقعاء عند اہل اللغۃ ان یلصق الرجل الیتیہ بالارض وینصب ساقیہ ویتساند ظہرہ
[12]؎    سنن ابن ماجہ:1/235 ،باب تنقیۃ الصحفۃ
[13]؎     صحیح مسلم:2/175 باب ااستحباب لعق الأصابع
[14]؎  جامع الترمذی:2/184 ،باب مایقول اذا فرغ من الطعام … سنن ابی داؤد:1/182،باب مایقول الرجل اذا طعم… سنن ابن ماجہ: 2/236 ،باب مایقال اذا فرغ من الطعام
[15]؎     سنن ابن ماجہ :1/237باب النہی ان یقام عن الطعام حتٰی یرفع
[16]؎      صحیح البخاری :2/820باب مایقول اذا فرغ من طعامہ
[17]؎  جامع الترمذی:2/6 باب الوضوء قبل الطعام وبعدہ… سنن ابی داؤد: 2/182 باب غسل الید من الطعام
[18]؎     صحیح البخاری:2/820 باب المضمضۃ بعد الطعام
[19]؎  جامع الترمذی:2/7 ،باب ماجاء فی التسمیۃ علی الطعام ،سنن ابی داؤد: 2/173 ،باب التسمیۃ علی الطعام
[20]؎     صحیح مسلم: 2/180 ،باب استحباب دعاء الضیف لاہل الطعام
[21]؎    سنن ابن ماجہ: 1/238  باب الیتدام بالخل
[22]؎    الجامع الصغیر:2/979(4741)
[23]؎     الاوسط للطبرانی :8/232(7473)
[24]؎    سنن ابی داؤد:2/169،باب ماجاء فی اجاب الدعوۃ
[25]؎     سنن ابن ماجہ:1/115 ،بابُ ماجاء فی الطعام یبعث الٰی اہل المیت